Skip to main content

Easy Exercises

 

 Easy Exercises 

Easy Exercises That Can Help You Lose Weight

وہ آسان ورزشیں جن سے وزن کم کیا جا سکتا ہے

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو یہ آپ کی ہڈیوں، جوڑوں اور پٹھوں پر زیادہ دباؤ اور تناؤ ڈال سکتا ہے لہذا ضروری ہے کہ ورزش کو اپنا معمول بنایا جائے تاکہ نہ صرف ظاہری طور پر آپ فٹ نظر آئیں بلکہ آپ کی اندرونی صحت بھی برقرار رہے۔
ذیل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کون سی ورزش آپ کے لیے فائدہ مند رہے گی جو آپ کے جوڑوں اور پٹھوں میں لچک کے ساتھ ساتھ طاقت بھی پیدا کرے گی۔
🏃🏻‍♀ چہل قدمی :
اگر آپ نے ابھی وزن کم کرنے کے لیے ورزش شروع کی ہے تو چہل قدمی بہترین طریقہ ہے۔ چہل قدمی جسم میں خون کی گردش بڑھاتی ہے، پھیپھڑوں کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتی ہے اور جسم میں دیگر افعال کو بھی  بہتر کرتی ہے جس سے وزن تیزی سے کم ہو سکتا ہے۔
🏃🏻 تیز دوڑنا :
جاگنگ چہل قدمی کے مقابلے میں وزن کم کرنے میں زیادہ مؤثر ہے لیکن اسے آہستہ آہستہ معمول میں شامل کیا جائے ورنہ یہ آپ کے جوڑوں اور تانگوں میں تناؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
اپنے جسم کی لچک اور طاقت کو آہستہ آہستہ بڑھانا ضروری ہے۔
🚴🏻‍♀ سٹیشنری سائیکل :
سٹیشنری سائیکل آپ کے جسم کی لچک اور طاقت کو بغیر کسی دباؤ کے بڑھانے کا ایک اور بہترین طریقہ ہے۔ چونکہ سٹیشنری بائک کو اپنی سہولت کے مطابق روکا جا سکتا ہے، یہ سائیکل چلانے کا ایک صحت مند متبادل ہے۔
🧎🏻 پش اپ :
ورزشیں جیسے پش اپس، سکواٹس وغیرہ زیادہ وزن کے حامل افراد کے لیے شروع میں تکلیف دہ ہو سکتی ہیں لیکن اگر انہیں معمول کا حصہ بنا لیا جائے تو وزن میں حیرت انگیز طور پر کمی ممکن ہے۔
🏊🏼‍♀ تیراکی :
تیراکی اور پانی کی ایروبکس ابتدائی طور پر وزن کم کرنے کے بہترین طریقے ہیں۔
🧘🏻‍♀️ یوگا :
یوگا وزن کم کرنے کا ایک مقبول طریقہ ہے کیونکہ اس کے بےشمار طبی فوائد تو ہیں ہی لیکن یہ ذہنی طور پر بھی پُرسکون رکھنے میں مد دیتا ہے۔ جدید دور میں ذہنی اور جسمانی طور پر چاک و چوبند رہنے کے لیے یوگا کی ورزشوں کو بہترین خیال کیا جاتا ہے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
 

 


Comments

Popular posts from this blog

Health Case with Jari Booti

  Welcome To primary care doctor  Health Case with Jari Booti پیٹ درد کے 9 مؤثر علاج بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ   سکتا ہے۔ یہ درد پیٹ کے ایک حصے میں بھی ہو سکتا ہے اور پیٹ کے تمام حصے میں بھی۔ عام طور پر لوگوں کو پسلیوں سےلے  کر ناف تک کے حصے میں درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیٹ کے ساتھ جگر، پھیپھڑے، اور آنتوں سمیت بہت سے اہم جسمانی اعضاء جڑے ہوتے ہیں جو کہ درد کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات پیٹ کا درد خود بخود ختم ہو جاتا ہے، جب کہ کئی مرتبہ اس درد کی شدت کو کم کرنے کے لیے ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ اس درد کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں رانوں اور جگر کی تکلیف، نمونیہ، اور کچھ جِلدی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ جب کہ ہارٹ اٹیک بھی پیٹ درد کی وجہ بن سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ معدے میں اگر تیزابیت زیادہ بننے لگ جائے تو پھر بھی پیٹ درد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، نیند کے مسائل، آدھے سر کا درد یا دردِ شقیقہ، یورک ایسڈ کا بڑھا ہوا لیول، قبض، اور کولیسٹرول میں بھی اضافہ بھی پیٹ درد کی وجہ بنتا ہے۔ پیٹ میں ہون...